لکھنؤ:8/مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) اسمبلی انتخابات میں کراری شکست کے بعد بھی سماجوادی پارٹی کا خاندانی تنازعہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔اب اکھلیش یادو نے چچا شیو پال یادو کے پانچ قریبی لیڈروں کو پارٹی سے باہر کا راستہ دکھادیا ہے۔شیو پال یادو نے گزشتہ دنوں سماجوادی سیکولر مورچہ بنانے کاعندیہ دیا تھا۔مانا جا رہا ہے کہ اکھلیش کی یہ کارروائی اسی کا جواب ہے۔سماجوادی پارٹی کی یوپی اکائی کے صدر نریش اتم نے بتایا کی پارٹی نے دیپک مشرا، محمد شاہد، راجیش یادو، رمیش یادو اور کلو یادو کو اکھلیش یادو کی ہدایت کے بعد پارٹی سے نکال دیا ہے، ان تمام پر پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔دیپک مشرا سماجوادی پارٹی کے جنرل سکریٹری رہ چکے ہیں، وہیں محمد شاہد پارٹی کے سابق ترجمان ہیں، رمیش یادو سماجوادی پارٹی کی نوئیڈا اکائی کے صدر تھے،جبکہ کلو یادو سماجوادی پارٹی یوجن سبھا کی نوئیڈا اکائی کے صدر تھے۔اکھلیش یادو نے یہ کارروائی شیوپال یادو کے سماجوادی سیکولر مورچہ بنانے کے اعلان کے بعد کیا ہے۔شیو پال یادو مطالبہ کر رہے ہیں کہ اکھلیش یادو پارٹی کے صدر کاعہدہ ملائم سنگھ یادو کو سونپ دیں، ورنہ تو وہ علیحدہ مورچہ بنانے کے لیے مجبور ہوں گے، حالانکہ اس اعلان پر ملائم سنگھ یادو کا موقف صاف نہیں ہے۔انہوں نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ شیو پال یادو کا درد سمجھتے ہیں لیکن انہیں پارٹی نہ توڑنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔